یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ

اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا
(سورہ بقرہ:۲۶۴)

صدقہ دینے کے آداب


یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۪-وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ

اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اللہ کی راہ میں ) کچھ خرچ کرو اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص مال (دینے) کا ارادہ نہ کرو حالانکہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم اسے چشم پوشی کئے بغیر قبول نہیں کروگے اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ، حمد کے لائق ہے۔
(سورہ بقرہ:۲۶۷)

حلال اور پاکیزہ مال سے زکوۃ اور صدقہ دینا


یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ-قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-قَدْ  بَیَّنَّا  لَكُمُ  الْاٰیٰتِ  اِنْ  كُنْتُمْ  تَعْقِلُوْنَ

اے ایمان والو! غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بیشک (ان کا) بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔


(سورآل عمران:۱۱۸)

کافروں کو اپنا راز دار نہ بنانا

فیضان تجوید

فیضان تجوید

فن تجوید کے اصول وقواعد

قال اللہ تعالی فی شان حبیبہ الکریم :

سوال : دعا میں جب آیت درود پڑھتے ہیں تو بنیت قرءان یہ آیت پڑھتے ہیں اس طرح سے قال اللہ تعالی فی شان حبیبہ الکریم ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی الخ تو قاری کو آیت سے پہلے استعاذہ کرناچاہیے مگر استعاذہ نہیں کرتے تو کیا یہ درست ہے؟

جواب :
جی یہ درست ہے وجہ یہ ہے کہ قال اللہ تعالی کے صیغہ کے بعد استعاذہ کرنے سے متبادر ہوگا کہ استعاذہ بھی کلام الہی ہے جب کہ استعاذہ مقولہ الہی نہیں چنانچہ برکات الترتیل میں یہ مسئلہ علامہ ازہری میاں علیہ الرحمہ سے استفادہ کرتے ہوئے اس طرح لکھاہے کہ بعض خطبا و مقرنین ، خطباکے اخیر میں قال اللہ تعالی فی القرءان المجید والفرقان الحمید وغیرہ قسم کے الفاظ ادا کرنے کے بعد اعوذ باللہ پڑھ کر موضوع سخن سے متعلق آیت پاک پڑھتے ہیں ، ایسا درست نہیں - کیوں کہ اس سے متبادر ہوتاہے کہ شاید استعاذہ بھی کلام الہی ہو - اس لیے ایسے موقع پر یا تو اعوذ باللہ نہیں پڑھناچاہیے یاپھر استعاذہ ہی کرے ، قال اللہ والا صیغہ استعمال نہ کرے اسی کے بعد مزید نہ پڑھنے کی علت علامہ عبد المبین نعمانی مدظلہ سے استفادہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ وجہ یہ ہے کہ تعوذ کے مروج الفاظ مقولہ الہی نہیں ، اس لیے فقد قال اللہ تعالی کی جگہ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہیے اور پھر تسمیہ و آیت قرءانی فقط

حرفِ ’’ض‘‘ کی ادائیگی :

سوال :

حضرت حرفِ ض کی ادائیگی کے متعلق جاننا تھا۔۔میں نے سعودی عربیہ میں تجوید کی تعلیم لی ہے ۔۔وہاں پر ہمیں حرفِ ض کو د کے مشابہ پڑھنے سیکھایا گیا ہے۔۔ اب جو ظ کے مشابہ پڑھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔۔تو جاننا تھا کہ کیا اب اس حرف کی ادائیگی کو بدلنا ضروری ہے ۔۔۔یا پھر جس طرح پڑھا ہے اسی طرح پڑھنے میں حرج نہیں ہوگا۔۔ اور حضرت میری ناقص عقل کی اصلاح کے لیے یہ بھی بتائیں، جیسا کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کی قرآن کو عرب کے لہجوں اور انکی آواز میں پڑھو ۔۔ہم انکی طرح کیوں نہیں پڑھ سکتے۔۔برائے کرم میری اصلاح فرمائیں ۔۔

جواب :

الجواب بعون الملك الوهاب فی مسئلۃ اداء حرف الضاد الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حروف قرآنیہ کل انتیس ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے سے الگ اور خود مستقل حرف ہے۔ البتہ ان میں سے بعض ایسے حروف بھی ہیں جو آواز میں بعض دیگر حروف کے مشابہ (ملتے جلتے) ہیں۔ مثلا ت اور ط، س اور ص وغیرہ۔ جبکہ ض آواز میں ظ کے مشابہ ہے یعنی ض کو جب ادا کرینگے تو آواز ظ کی طرح سنائی دیگی۔ جیسا کہ قرنِ رابع کے قاری، علامہ ابو محمد مکی (المتوفی ٤٣٧ھ) علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب الرعايه (جو تجوید کی بہت مستند اور پرانی کتاب ہے) کے باب الضاد میں فرمایا کہ و الضاد لفظها ىشبه بلفظ الظاء یعنی ض کا تلفظ ظ کے مشابہ ہے۔ اور صرف یہاں نہیں بلکہ باب الظاء میں بھی فرمایا و الظاء حرف ىشبه لفظه في السمع بلفظ الضاد یعنی حرف ظ سننے میں حرف ض کے مشابہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ و الرضوان نے فتاوی رضویہ جلد ٦، صفحہ ٢٧٥ میں فرمایا کہ "ض و ظ کا قدر مشتبہ الصوت (ملتی جلتی آواز) ہونا یقینی ہے یہاں تک کہ تمیز دشوار" پھر کچھ ہی آگے ظ کے بارے میں بھی فرمایا کہ "ظا جب اپنے صحیح مخرج سے استعلا اور اطباق کی رعایت کے ساتھ ادا کی جائے تو وہ ضاد کے ساتھ ضرور مشابہ ہو جائے گی"۔

لیکن افسوس! صد کروڑ افسوس کے فی زمانہ کیا عرب کیا عجم ہر جگہ کثیر تعداد ض کو د کی طرح ادا کرتی ہے۔ جبکہ ض اور د مشتبہ الصوت (آواز میں ملتی جلتی) نہیں۔ چنانچہ ہمارے دادا استاذ مجود اعظم حضرت قاری محب الدین علیہ الرحمہ جن کی کتاب معرفۃ التجوید ہند و پاک کے تقریبا تمام مدارس قراءت میں داخل نصاب ہے، کتاب فوائد مکیہ میں صفت استطالت کے بیان پر ضاد کے متعلق حاشیہ لکھتے ہیں کہ "اگر دال کی طرح آواز معلوم ہو تو سمجھنا چاہیے کہ صفت استطالت نہیں ادا ہوئی، کیوں کہ دال میں بوجہ شدت حبس صوت ہے جو مانع استطالت ہے، ہاں اگر ظا کی طرح آواز معلوم ہو تو اس وقت اس صفت کا ادا ہونا ممکن ہے جب کہ نوک زبان ظا کے مخرج سے بالکل جدا رہے۔" مزید یہ کہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اپنے ایک فتوے میں فرماتے ہیں کہ "عوام میں یہ غلط مشہور ہے کہ ضاد دال کے مشابہ ہے" اور کچھ آگے سیدی اعلی حضرت کا مذکورہ فتوی بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ "عوام اہل سنت کو لازم ہے کہ وہ ائمہ قراءت کے ارشادات کو بے چون و چرا تسلیم کریں۔" تو پتہ یہ چلا کہ حرف ضاد کو دال کی طرح ادا کرنا بالکل غلط اور خلاف قاعدہ ہے۔

کسی مفتی صاحب کے متعلق سننے میں آیا کہ وہ فرما رہے ہیں کے ض کو دونوں طرح پڑھ سکتے اور آپ نے بھی سوال میں اس تردد کا اظہار کیا ہے کہ پہلے کی طرح ض کو دال کے مشابہ پڑھنا کفایت کریگا یا اس کا درست طریقہ جو بیان کیا جا رہا ہے جس سے آواز مشابہ بالظا سنائی دیگی ویسا ادا کرنا ضروری ہے۔ تو جان لیں کہ تجوید میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا کیونکہ تجوید کا دو ہی جز ہے ایک مخرج دوسرا صفت، اور ہر حرف کا مخرج اور اسکے صفات متعین اور متفق علیہ ہے ایسا نہیں کہ فلاں کے نزدیک فلاں حرف کا مخرج کچھ ہے اور فلاں کے نزدیک کچھ۔ اسی طرح صفات میں بھی۔ ہاں تعداد مخرج میں جو اختلاف ہے وہ اعتباری ہے حقیقی اختلاف نہیں، جیسا کہ علامہ فرا نے ل،ن اور ر میں قرب کا اعتبار کر کے ایک کہ دیا ،جبکہ علامہ سیبویہ اور خلیل نے قرب کا لحاظ نہ کرکے تینوں کا مخرج الگ الگ بیان کیا۔ لہذا آپ کا حرف ض کو اپنے پرانے طریقے یعنی مشابہ بالدال پڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی بلکہ اسے اس کے مخرج و صفات کی رعایت کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے جس سے آواز خود باخود ظ سے مشابہ ہوگی، د سے ہر گز نہیں۔

اور جو فرمایا گیا کہ اقرءوا القرآن بلحون العرب و اصواتھا تو اس میں لحون سے مراد لہجہ ہے نہ کہ ادائیگی ۔ قاری ضیاء الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "رہا لہجہ عربی سو یہ تجوید و قراءت میں داخل نہیں۔ البتہ عربی لہجہ سے کلام اللہ پڑھنا مستحسن اور بہت اچھا ہے" (ضیاء القراءت، صفحہ ٧٦، مطبوعہ صراط پبلیکیشن)، اور ابن جزری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب التمہید فی التجوید کے صفحہ نمبر ٢٠ میں فرمایا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے (قرآن پاک کے سورہ مزمل کی آیت نمبر ٤ میں سے) وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا کا معنی پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا "ترتیل حروف کو تجوید سے پڑھنا اور ٹہرنے کی جگہ کو پہچاننا ہے"، دیکھا آپ نے قرآن سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن کو تجوید سے پڑھنا ہے اور لہجہ (یعنی آواز کا مخصوص انداز میں اتار چڑھاو) کا تعلق حروف کی ادائیگی سے ہے ہی نہیں کیونکہ اس کا محل مدات و غنہ ہے۔ نفسِ حرف کا لہجے سے کوئی تعلق نہیں۔ لہذا حرف ض کا تعلق بھی لہجہ سے بالکل بھی نہیں۔ اس لئے اس روایت کو حرف ض کی ادائیگی کے متعلق بیان کرنا فضول ہے۔

ویسےبھی دال کے مشابہ پڑھنا اس دور کے عرب کے قرا نے شروع کیا ہے، پہلے کے عرب ض کو درست ادا کرتے تھے، اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عرب میں ساتویں صدی کے عالم دین نے معرفۃ الفرق بین الضاد و الظا لکھا جس میں قرآن پاک میں سے ض اور ظ والے بعض کلمات کو شمار کیا تاکہ لوگ ض کی جگہ ظ یا ظ کی جگہ ض نہ پڑھیں، ظاہر ہے ض اور ظ کا انتخاب اس لئے کیا کہ اس وقت ض کو مشابہ بالظا ہی پڑھا جا رہا ہوگا۔ مزید یہ کہ آج سے تقریباً سو سال پہلے علمائے حرمین شریفین سے استفتا کیا گیا تھا کہ ہمارے دیار میں ض کو تین طرح ادا کیا جا رہا ہے پہلا یہ کہ دال کی طرح دوسرا یہ کہ غین اور دال ملا کر اور تیسرا یہ کہ اس طرح جس سے آواز ظ کی طرح سنائی دیتی ہے۔ جس کے جواب میں مکہ مکرمہ کے مدرسہ الفلاح کے ایک مدرس احمد حامد عبد الرزاق نے حرف ض کی ظ سے مشابہت کو درست قرار دینے کے بعد آخر میں فرمایا "أما كون الضاد قريبة من الدال، أو الغين في التلفظ، فبعيد عن الحق" یعنی ض کو د یا غ کے قریب تلفظ کرنا درست نہیں ہے۔ ٢٥ ذي القعده ١٣٥١ ھ، مدرسہ الفلاح مکہ مکرمہ۔ (کتاب تنبیہ العباد الی کیفیۃ النطق بالضاد، صفحہ نمبر ٨١-٨٣) ان باتوں سے پتہ چلا کہ حرف ضاد کو دال کی طرح پڑھنا یہ طریقہ غلط ہے اور ایک دو صدی پہلے یہ معاملہ پیش آیا ہے۔ اس سے پہلے عرب کے لوگ درست پڑھتے تھے۔

اور یہ بھی جان لیں کہ جب حرف ض کو درست ادا کیا جاتا ہے جس سے آواز ظ کی طرح سنائی دیتی ہے تو کچھ لوگ اس پر وہ احکام عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بعینہ ظ پڑھنے پر ہوتے ہیں۔ حرف ض کی جگہ ظ پڑھنا تبدیل حرف ہے جو لحن جلی ہے اور اس کا اعتقاد رکھنا کفر ہے۔ اور ہم تبدیل حرف کا نہیں کہتے بلکہ مشابہت صوتی کا کہتے ہیں۔ خیر، جو اشکال سوال میں موجود تھا اس کا حل تفصیلا ذکر کر دیا ہے۔ ورنہ اس ضمن میں طرح طرح کے غلط فہمیاں ہیں مثلاً یہ کہ ض کو د کی طرح پڑھنا اہل سنت کا طریقہ ہے اور ظ کی طرح پڑھنا بد مذہبوں کا طریقہ ہے یہاں تک کچھ اکابر علما نے اس پر کتاب بھی لکھ دی کہ ض کو دال کی طرح ادا کرنا چاہیے اور بعض نہ آن رکارڈ بھی کہ دیا، اگر موقع میسر آیا تو ہم اس پر ایک رسالہ تحریر کر کے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے مختلف قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ تعالی۔

خلاصہ کلام یہ کہ حرف ض کو اس کے مخرج اور صفات سے ہی ادا کرنا ہے اس طرح آواز خود باخود ظا کی طرح سنائی دیگی لیکن خیال رہے کہ زبان کی کروٹ کے علاوہ کوئی حصہ کہیں اور ٹچ نہ ہونے پائے ورنہ جس جگہ زبان لگے گی اس کے مطابق حرف میں خرابی لازم ائے گی، مثلا سامنے کے دونتوں یا مسوڑھوں وغیرہ میں زبان لگی تو وہ ض کی بجائے دال یا ظا بن جائے گا اور یہ غیر محسوس طریقے پر ہوتا ہے اور ہم خوش فہمی میں ہوتے ہیں کہ ہم درست ادا کر رہے ہیں۔ ان چیزوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ زبان کو پیچھے کر لیا جائے تاکہ زبان کا سرا کہیں دوسرے جگہ ٹچ نہ ہو پھر زبان کی کروٹ داڑھوں میں لگے اور زبان کی جڑ تالو کی طرف اٹھ جائے تاکہ یہ حرف پُر ہو جائے اور زبان کا بیچ تالو کو ڈھک لے تاکہ صفت اطباق ادا ہو جائے پھر زبان کچھ آگے چلے تاکہ صفت استطالت بھی ادا ہو جائے اس طریقے پر حرف ض اپنے درست مخرج اور سبھی صفات کے ساتھ ادا ہو جائے گا اور اس حرف کی صحت کی پہچان یہ ہے کہ آواز یک بارگی نہ نکلے بلکہ کچھ وقت لگے، اگر یک بارگی نکل گئی جیسا کہ دال کی طرح، تو سمجھنا چاہیے کہ حرف درست نہیں ادا ہوا۔ ہم نے جو کسوٹی (پرکھنے کا طریقہ) بیان کیا ہے اس کی روشنی میں اس حرف کی مشق کسی ایسے قاری سے کر لیا جائے جنہیں مخارج و صفات کا درست ادراک ہو۔

و اللہ اعلم بالصواب و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔

کیااظہار کی صورت میں بالکل بھی غنہ نہیں کریں گے؟

غنہ کی دو قسمیں ہیں. 1. غنہ آنی 2. غنہ زمانی جب مطلقاً غنہ کہا جاتا ہے تو اس سے مراد غنہ زمانی ہوتا ہے، جیسے اخفا، ادغام وغیرہ کا غنہ۔ اور غنہ زمانی وہ ہوتا ہے جس میں غنہ کی مقدار ایک الف برابر ہوتی ہے، جبکہ غنہ آنی وہ ہوتا جس میں ایک الف جتنا وقت نہیں لگتا بلکہ وہ آن بھر میں یعنی فوراً ادا ہو جائے۔ (ماخوذ از ضیاء الترتیل)

خیال رہے غنہ "ن اور "م" کی صفت ذاتیہ ہے یہ کبھی الگ نہیں ہو سکتی، اب چاہے اخفا ہو یا اظہار نون اور میم میں غنہ لازمی ہو گا، بس فرق یہ ہے کہ اخفا وغیرہ میں غنہ زمانی ہے جبکہ اظہار میں غنہ آنی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اظہار کی صورت میں غنہ ذرا بھی نہ ہو اور جو بے چارے درست ادا کرتے ہیں انہیں کہتے ہیں آپ کی آواز ناک میں جا رہی ہے، ناک میں آواز بالکل بھی نہیں جانی چاہیے۔ افسوس کی بات ہے اتنی بنیادی بات میں غلط فہمی پائی جا رہی ہے۔ اللہ پاک ہمیں درست علمِ تجوید حاصل کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین

ابو جنید سہیل اختر عطاری 12 صفر المظفر 1446ھ